عالمی دفاعی خبریں

عالمی دفاعی خبریں

دنیا بھر میں ہونے والی جدید ترین دفاعی ترقیات

Sufra اینٹی ڈرون گن
پاکستان

پاکستانی اینٹی ڈرون گن 'سفرا'

پاکستانی کمپنی نیشنل الیکٹرانکس کمپلیکس کی جانب سے ایک اینٹی ڈرون گن بنائی گئی ہے جو کہ ریڈیو فریکوئینسیز کا استعمال کرتے ہوئے کامیکازی اور FPV طرز کے ڈرونز کو مار گرانے کا کام کر سکتی ہے۔ اسے Sufra کا نام دیا گیا ہے اور یہ 1.5 کلومیٹر کی رینج تک ڈرونز کو انٹرسیپٹ کر سکتی ہے۔

امریکی ڈرونز
امریکہ

امریکی فوج کا 10 لاکھ ڈرونز کا منصوبہ

امریکی آرمی کی جانب سے ارادہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ اگلے دو سے تین سالوں کے درمیان دس لاکھ ڈرونز اپنی سروس میں شامل کرے گی۔ یہ چھوٹے سرویلنس اور کامیکازی طرز کے ڈرونز ہونگے۔

Meko A200 فریگیٹ
سعودی عرب

سعودی عرب جرمن فریگیٹ میں دلچسپی

سعودی عرب کی جانب سے جرمن ساختہ Meko A200 فریگیٹ کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب اس فریگیٹ کو بنانے والی جرمن کمپنی TKMS سے بات چیت کر رہا ہے۔

یوکرینی ڈرون انجن
یوکرین

یوکرینی ڈرونز کے لیے انجن پروڈکشن

دو یوکرینی کمپنیوں کی جانب سے یوکرین کے لانگ رینج ڈرونز کے لیے انجن پروڈکشن شروع کر دی گئی ہے۔ البتہ ابھی یہ کمپنیاں موجودہ ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر پا رہیں۔

Arsus 100 وہیکل
پولینڈ

پولینڈ کو ترکی سے Arsus 100 وہیکلز موصول

پولینڈ کو ترکیہ سے Arsus 100 وہیکلز کا پہلا بیچ موصول ہوگیا ہے۔ یہ وہیکلز دن اور رات دونوں میں اور ہر طرح کے موسم میں کمیونیکشن، ہدف کی نگرانی اور جاسوسی جیسے مشنز سرانجام دے سکتی ہیں۔

مسٹرال میزائل سسٹم
آسٹریلیا

آسٹریلیا میں مسٹرال میزائل سسٹم کی لوکل پروڈکشن

آسٹریلیا کی جانب سے ارادہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ سڈنی میں فرانسیسی ساختہ مسٹرال شارٹ رینج سرفیس ٹو ائیر میزائل سسٹمز کی لوکل پروڈکشن کرے گا۔

ایس 400 تباہی
یوکرین

یوکرینی ڈرونز نے روسی ایس 400 سسٹم تباہ کیا

یوکرینی سپیشل فورسز کی جانب سے ایک آپریشن کے دوران FP 2 کامیکازی ڈرونز کو استعمال کرتے ہوئے ایک روسی ایس 400 ائیر ڈیفینس سسٹم اور ایک اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا ہے۔

R60M میزائل
یوکرین

یوکرین R60M میزائل کو ماڈرنائز کر رہا ہے

یوکرین کی جانب سے سوویت ساختہ R60M شارٹ رینج ائیر ٹو ائیر میزائلوں کو ماڈرنائز کیا جا رہا ہے۔ یہ میزائل بیس سے چالیس کلومیٹر کی رینج تک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

MPLS سسٹم
فرانس

فرانسیسی نیوی MPLS سسٹم ٹیسٹ کرے گی

فرانسیسی نیوی فرنچ کمپنی نیول گروپ کے بنائے ہوئے MPLS کو ٹیسٹ کرنے جا رہی ہے۔ یہ سسٹم لانچ ٹیوبز پر مشتمل ہے اور ان لانچ ٹیوبز سے کامیکازی ڈرونز، شارٹ رینج سرفیس ٹو ائیر میزائل، اینٹی آرمر میزائل اور ڈیکوائے وغیرہ لانچ کیے جا سکتے ہیں۔

Aster 30 SAMP/T
فرانس

فرانسیسی Aster 30 پیٹریاٹ سے بہتر ہے

فرانسیسی چیف آف جنرل اسٹاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فرنچ ساختہ Aster 30 SAMP/T لانگ رینج ائیر ڈیفینس سسٹم اپنی کارکردگی کے معاملے میں امریکی پیٹریاٹ سسٹم سے بہتر ہے اور یوکرین میں اس سسٹم نے اس چیز کو ثابت کیا ہے۔

Sky Ranger سسٹم
جرمنی

Rheinmetall ایک ہزار Sky Ranger سسٹمز بیچنے کا ہدف

جرمن کمپنی Rheinmetall کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایک ہزار سے زائد Sky ranger اینٹی ائیر کرافٹ سسٹمز بیچنے کا ہدف حاصل کرے گی۔

ایف 15 ایگل 2
مصر

مصر امریکہ سے ایف 15 ایگل 2 جہازوں کی خریداری چاہتا ہے

مصر کی جانب سے امریکہ سے چھیالیس ایف 15 ایگل 2 جہازوں کی خریداری سے متعلق بات چیت ابھی بھی جاری ہے۔ اس ڈیل کی مالیت قریباً سات ارب ڈالر ہے۔

Skynex سسٹم
جرمنی

جرمن Skynex سسٹم یوکرین میں کارگر ثابت ہو رہا ہے

جرمن کمپنی Rheinmetall کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا بنایا ہوا Skynex اینٹی ائیر کرافٹ سسٹم یوکرین میں شاہد 136 طرز کے کامیکازی ڈرونز کے علاوہ روسی کیلیبر Kh 101 سب سونک کروز میزائلوں کے خلاف بھی کارگر ثابت ہو رہا ہے۔

آخری اپڈیٹ: جون 2023 | تیار کردہ: ارحم

پاکستان کی دفاعی خبروں کا جامع جائزہ: ایک نئی حکمت عملی کی جانب سفر پاکستان کا دفاعی شعبہ نہ صرف ملکی سالمیت کا محافظ ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ ماہ و سال میں پاکستانی دفاعی منظر نامے میں کئی اہم پیشرفتیں، چیلنجز اور حکمت عملی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جو ملک کی سلامتی کی پیچیدگیوں اور اس کے جوابی اقدامات کو ظاہر کرتی ہیں۔ داخلی سلامتی کے محاذ پر پیشرفت پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً پاک فوج، نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آپریشن رادل الاصلام اور ضرب الرب جیسے اقدامات کے نتیجے میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد گروہوں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، بلوچستان اور کے پی کے میں چھوٹے پیمانے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کی چوکسی اور انٹیلی جنس آپریشنز میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سرحدی انتظامیہ اور ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان نے اپنی سرحدوں، خاص طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کے انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ سمارٹ بارڈر فینسنگ کا منصوبہ، جس کا مقام غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کو روکنا ہے، اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ، فضائی نگرانی کے نظاموں اور سی سی ٹی وی کیمروں کے جال بچھانے سے سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔ دفاعی جدید کاری اور مقامی پیداوار پاکستان کی دفاعی صنعت، خاص طور پر ایرو اسپیس کمپلیکس اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، دفاعی خود انحصاری کے لیے اہم ستون ہیں۔ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے تیسرے بیچ (بلاک III) کی تیاری، جس میں جدید ترین ایویونکس اور AESA ریڈار لگایا گیا ہے، ایک بڑی پیشرفت ہے۔ مقامی طور پر تیار کردہ ایل سی اے ٹیکنالوجی پر مبنی ال خالد ٹینک کی اپ گریڈیشن، اور جدید غازی میزائل بوٹس کا بحریہ میں شامل ہونا، پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی علامت ہیں۔ نئی جنریشن کے غازی شہید کلاس آبدوزوں کا منصوبہ، جو چین کے تعاون سے آٹھویں جنریشن کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، پاکستان کی بحریہ کی تزویراتی صلاحیتوں میں انقلابی اضافہ کرے گا۔ خطائی اور علاقائی دفاعی تعلقات پاکستان کا دفاعی تعلقات کا محور روایتی طور پر چین اور امریکہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ترکی، سعودی عرب اور روس کے ساتھ تعلقات میں بھی تنوع آیا ہے۔ · چین کے ساتھ تعلقات: سی پیک منصوبے کے تحفظ کے لیے دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کے ساتھ مشترکہ فضائی مشقیں (شاہین سیریز) اور بحری مشقیں (سی فرینڈشپ) جاری ہیں۔ J-10C طیاروں کی فراہمی اور جدید ترین ہتھیاروں کے ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بات چیت، اس شراکت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ · امریکہ کے ساتھ تعلقات: افغان جنگ کے خاتمے کے بعد دفاعی تعلقات میں کچھ کشیدگی آئی ہے، تاہم، کچھ محدود تعاون، جیسے کہ F-16 طیاروں کی بحالی اور سیکیورٹی کے شعبے میں بات چیت، جاری ہے۔ امریکہ اب پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی امداد دہندہ نہیں رہا۔ · روس اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات: روس کے ساتھ تعلقات میں نرمی آئی ہے، جس میں مشترکہ فوجی مشقیں (دریا-انٹی ٹیرر ازم) اور ہیلی کاپٹروں کی فروخت جیسے معاملات شامل ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون، خاص طور پر ملٹری اسپیس پروگرام، یو اے وی ٹیکنالوجی، اور جنگی جہاز (مثل بابر کلاس کورویٹس) کی تعمیر میں باہمی تعاون قابل ذکر ہے۔ ایٹمی صلاحیت اور توازن پاکستان کی ایٹمی ڈاکٹرائن "کم از کم قابل اعتماد ڈیٹرنس" پر مرکوز ہے۔ ایٹمی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے، بابر-3 (کروز میزائل) کی آزمائش، جو 450 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے، اور شہناز-1 جیسے جدید ترین میزائل سسٹمز کی تیاری، پاکستان کی ثانوی حملے کی صلاحیت (سیکنڈ اسٹرائیک کیپبلٹی) کو مضبوط کرتی ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کرتا رہا ہے، لیکن بھارت کے ساتھ اسٹریٹجیکل توازن برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔ سائبر وارفئیر اور غیر روایتی چیلنجز سائبر جنگ ایک نئی اور بڑھتی ہوئی خطرہ بن گئی ہے۔ پاکستان نے اپنی سائبر کمان کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ ملکی انفراسٹرکچر، فوجی نیٹ ورکس اور حکومتی اداروں کو سائبر حملوں سے بچایا جا سکے۔ سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول پر کام جاری ہے۔ دفاعی بجٹ اور معاشی چیلنجز معاشی دباؤ کے باوجود، پاکستان کا دفاعی بجٹ تقریباً $7-8 بلین سالانہ ہے، جو جی ڈی پی کا تقریباً 3% ہے۔ یہ بجٹ زیادہ تر تنخواہوں، پنشنز اور موجودہ آپریشنل اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ جدید ہتھیاروں کی خریداری کے لیے فنڈز کی قلت ایک چیلنج ہے، جس کے پیش نظر مقامی پیداوار اور حکمت عملی شراکت داریوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق اور فوجی عدالتوں کا مسئلہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت کے واقعات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سیکیورٹی آپریشنز کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات، پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ تمام آپریشنز قومی و بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دیتی ہے۔ آئندہ کے امکانات مستقبل میں، پاکستان کی دفاعی حکمت عملی درج ذیل پر مرکوز رہنے کا امکان ہے: 1. دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رکھنا۔ 2. مقامی دفاعی صنعت کو جدید تر بنانا اور خود انحصاری بڑھانا۔ 3. خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے تزویراتی شراکت داریوں میں تنوع لانا۔ 4. سائبر وارفئیر، اسپیس وارفئیر اور الیکٹرانک وارفئیر جیسے نئے ڈومینز میں صلاحیتوں کو بڑھانا۔ 5. دفاعی بجٹ کا موثر استعمال اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے سرمایہ کاری۔ نتیجہ پاکستان کا دفاعی منظر نامہ نہ صرف داخلی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹ رہا ہے بلکہ وہ علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔ مقامی پیداوار، جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول، اور مختلف ممالک کے ساتھ حکمت عملی شراکت داریوں کے ذریعے، پاکستان اپنی قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، معاشی چیلنجز، نئے قسم کے خطرات اور علاقائی کشیدگی اس سفر کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔