Well come on website thanks for Visiting on site. Please Commenet any issue and conatact admin Thanks افغانستان کی آبی جنگیں

افغانستان کی آبی جنگیں

 

افغانستان کی آبی جنگیں | تجزیہ

افغانستان کی آبی جنگیں

علاقائی آبی تنازعات کا جامع تجزیہ اور ممکنہ حل

افغانستان کی طرف سے دریائے کنڑ کا پاکستان کے انڈس سسٹم میں بہنے والا پانی موڑنے کے لیے ڈیم بنانے کے اعلان سے پاکستان کا آبی گھیراو مکمل ہوتا نظر آرہا ہے۔ یہ اعلان انڈیا کی طرف سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پھر دریائے چناب کو موڑنے والی چھے دریائی رابطہ نہروں کے منصوبے کا ہی ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔

پاکستان پر اثرات

افغانستان کا دریائے کنڑ پر ڈیم بنانے کا منصوبہ درحقیقت پاکستان کے لیے ایک اہم آبی چیلنج پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے معطل ہونے کے بعد پانی کے تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔

دریائے کنڑ کا مقام

افغانستان-پاکستان سرحد پر دریائے کنڑ کا نقشہ

دریائے کنڑ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں داخل ہوتا ہے اور دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔

وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تنازعات

افغانستان کے آمو دریا سے قوش تپا نہر کا منصوبہ ازبکستان اور ترکمانستان کے لیے تشویش کا باعث ہے:

  • ان ممالک کا زرعی نظام آمو دریا کے پانی پر انحصار کرتا ہے
  • اس معاملے پر کوئی عالمی معاہدہ موجود نہیں
  • پانی کے بہاؤ میں کمی ان ممالک کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے

ایران کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی

ہلمند دریا پر کمال خان ڈیم کا منصوبہ 1973 کے ہلمند دریا کے پانی کے معاہدے کے برعکس ہے، جو ایران کو دریا کے پانی میں حصہ داری کا حق دیتا ہے۔

بین الاقوامی آبی قوانین کا تناظر

بین الاقوامی قانون کے تحت:

  • دریاؤں کا پانی مشترکہ وسائل میں شمار ہوتا ہے
  • تمام ریپیرین (کنارے پر واقع) ممالک کے پانی کے حقوق مساوی ہوتے ہیں
  • یکطرفہ منصوبوں سے بین الاقوامی تنازعات پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے

حل کی تجاویز

اس صورتحال کے ممکنہ حل میں شامل ہیں:

  • بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے مذاکرات
  • علاقائی سطح پر پانی کے انتظام کے نئے معاہدے
  • مشترکہ منصوبوں کی تیاری جو تمام ممالک کے مفادات کا تحفظ کریں
  • پانی کے استعمال میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

خلاصہ

افغانستان کو اپنے پانی کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے، لیکن بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ ممالک کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ علاقائی تعاون اور باہمی مفاد کے منصوبوں سے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے۔

تحریر: انجینیئر ظفر وٹو

© 2023 آبی وسائل کے علاقائی تنازعات کا تجزیہ | یہ تحریر صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے

افغانستان کی آبی جنگیں: ایک پیچیدہ علاقائی بحران افغانستان، جسے عام طور پر جنگیں، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کی سرزمین سمجھا جاتا ہے، ایک اور خاموش لیکن انتہائی خطرناک جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے — "آبی جنگ"۔ یہ جنگ نہ تو روایتی فوجی محاذ آرائی ہے اور نہ ہی کھلی بمباری، بلکہ یہ دریاﺅں، نہروں اور آبی ذخائر پر کنٹرول کی جنگ ہے جس کے نتیجے میں خطے کی کروڑوں افراد کی زندگی، زراعت، معیشت اور سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ افغانستان کا جغرافیہ اسے خطے کا "آبی قلعہ" بنا دیتا ہے، اور اس قلعے کے دروازے اب کھل رہے ہیں، جس سے پانی کی تقسیم کے حوالے سے دہائیوں پرانے تنازعات پھر سے ابھر رہے ہیں۔ جغرافیائی اہمیت: خطے کا آبی محور افغانستان کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر ہندوکش، ایشیا کی چند عظیم دریائی نظاموں کے آبی تقسیم کار (Water Divide) کا کام کرتے ہیں۔ ملک کے داخلی اور سرحدی دریاؤں کا نظام بنیادی طور پر تین بڑے دریائی طاسوں (River Basins) میں بٹا ہوا ہے: 1. ہلمند دریا کا طاس: جنوب مغربی افغانستان سے ہوتا ہوا ایران میں داخل ہوتا ہے اور سیستان کی جھیل میں گرتا ہے۔ ہلمند دریا افغانستان کا سب سے طویل دریا ہے اور اس کا پانی زراعت اور پینے کے لیے نہایت اہم ہے۔ 2. ہری رود-مرغاب کا طاس: مغربی افغانستان سے نکل کر ترکمانستان میں داخل ہوتا ہے، اور آخرکار صحرائے قاراقوم میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ 3. آمو دریا کا طاس: شمالی افغانستان میں پامیر کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے ہوتا ہوا بحیرہ آرال میں گرتا ہے۔ یہ وسطی ایشیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ 4. کابل دریا کا طاس: مشرقی افغانستان سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی جغرافیائی حقیقت افغانستان کو ایک "اوپری ریپیرین (Upstream) ریاست" بنا دیتی ہے، جبکہ اس کے پڑوسی ممالک — ایران، پاکستان، ترکمانستان، ازبکستان — "زیریں ریپیرین (Downstream) ریاستیں" بن جاتے ہیں۔ یہی اوپری اور زیریں ریاست کا تعلق تنازعے کی جڑ ہے۔ تاریخی تناظر: معاہدوں سے لے کر تنازعات تک ایران کے ساتھ تنازعہ: ہلمند دریا ایران اور افغانستان کے درمیان ہلمند دریا پر تنازعہ ایک صدی سے بھی پرانا ہے۔ اس کی بنیاد 1870 کی دہائی میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے رکھی، جنہوں نے ایران اور افغانستان کی سرحدیں کھینچیں۔ 1939 میں ایک عارضی معاہدہ ہوا، لیکن اصل معاہدہ 1973 کے ہلمند دریا کے پانی کے معاہدے (Helmand River Water Treaty) کی شکل میں سامنے آیا۔ اس معاہدے کے تحت: · افغانستان ہر سیکنڈ میں 22 مکعب میٹر پانی ایران کو دے گا (سالانہ اوسط سے تقریباً 820 ملین مکعب میٹر)۔ · دونوں ممالک مشترکہ طور پر پانی کے بہاؤ کی نگرانی کریں گے۔ · خشک سالی کی صورت میں پانی برابر تقسیم کیا جائے گا۔ تاہم، اس معاہدے میں کئی ابہام تھے: · یہ پانی کی اصل مقدار کا فیصد طے نہیں کرتا تھا۔ · زیر زمین پانی (Groundwater) کے بارے میں خاموش تھا۔ · افغانستان کے لیے ڈیم بنانے کی واضح اجازت نہیں تھی۔ موجودہ کشیدگی: گذشتہ دو دہائیوں میں افغانستان نے کجکی ڈیم کو بحال کیا اور کمال خان ڈیم جیسے نئے ڈیم بنائے۔ ایران کا موقف ہے کہ ان ڈیموں سے ہلمند دریا کا بہاؤ کم ہو رہا ہے، جس سے صوبہ سیستان و بلوچستان میں قحط کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جہاں کی زراعت اور ماہی پروری مکمل طور پر ہلمند کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ ایران نے اسے "انسانی حقوق کی خلاف ورزی" اور "دشمنی کا اقدام" قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے کھلے عام افغان سرحد پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں، اور دونوں اطراف سے جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں، اور ایران کو پانی کی کمی کا سامنا خشک سالی کی وجہ سے ہے، نہ کہ ڈیموں کی وجہ سے۔ پاکستان کے ساتھ تنازعہ: دریائے کابل اور سندھ طاس پاکستان اور افغانستان کے درمیان آبی تنازعے کی جڑیں ڈیورنڈ لائن کے تعین (1893) سے جڑی ہیں، جس نے دریاؤں کو قدرتی سرحد بننے سے روک دیا۔ 1960 کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) میں افغانستان شامل نہیں تھا، حالانکہ دریائے کابل، سندھ کا اہم معاون دریا ہے اور اس کا 17% پانی افغانستان سے آتا ہے۔ اہم مسائل: 1. افغانستان کی آبی ترقی: افغانستان دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں پر شہراب پورٹ سمیت متعدد ڈیموں اور پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اس سے دریائے کابل کے بہاؤ پر منفی اثر پڑے گا، جس پر پشاور کی وادی، چارسدہ اور نوشہرہ کے علاقوں کی زراعت اور پن بجلی کا انحصار ہے۔ 2. کُنڑ ڈیم: دریائے کنڑ (کابل کا معاون دریا) پر بننے والا یہ ڈیم خاص طور پر متنازعہ ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ یہ ڈیم معاہدے کے خلاف ہے، جبکہ افغانستان کا کہنا ہے کہ اسے اپنے وسائل استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ 3. پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال: پاکستان میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں افغانستان پانی کے بہاؤ کو ایک استراتژک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوں۔ طالبان حکومت نے دریائے کابل پر مہمند ڈیم کی تعمیر کا کام تیز کر دیا ہے، جس سے پاکستان کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تنازعہ: آمو دریا افغانستان کا شمالی حصہ آمو دریا کے طاس میں آتا ہے۔ سوویت دور میں، افغانستان نے اس دریا کے پانی کا بہت کم استعمال کیا۔ لیکن اب، آبادی میں اضافے اور زرعی ترقی کی ضروریات کے پیش نظر، افغانستان آمو دریا اور اس کے معاون دریاؤں (جیسے پنج، کوکچا) پر ڈیم بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ · ازبکستان اور ترکمانستان کے لیے یہ ایک وجودی خطرہ (Existential Threat) ہے۔ یہ دونوں ممالک اپنی 90% سے زاید پانی کی ضروریات آمو دریا سے پوری کرتے ہیں۔ ان کی زراعت، خاص طور پر پن بہاری (کپاس)، مکمل طور پر دریائی پانی پر انحصار کرتی ہے۔ · ازبکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان کے ڈیموں سے آمو دریا کا بہاؤ کم ہوگا، جس سے پہلے ہی خشک ہوتے بحیرہ آرال کی تباہی مکمل ہو جائے گی اور خطے میں صحرا زدگی (Desertification) بڑھ جائے گی۔ · تاجکستان، جو خود اوپری ریاست ہے، افغانستان کے ساتھ پن بجلی کے مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ طالبان حکومت کی آبی پالیسی: ایک نیا موڑ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، آبی تنازعات میں ایک نیا اور اہم موڑ آیا ہے۔ طالبان کی ترجیحات میں سے ایک "آبادیاتی انجینئرنگ" ہے — یعنی زرعی زمینوں میں اضافہ کرکے آبادی کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا۔ اس کے لیے وہ بڑے آبی ذخائر اور نہری نظام کی تعمیر پر زور دے رہے ہیں۔ · انہوں نے کمال خان ڈیم کا افتتاح کیا اور مہمند ڈیم کی تعمیر پر تیزی سے کام شروع کروایا۔ · انہوں نے قوش تپہ ڈیم سمیت 12 نئے ڈیموں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے، جن میں سے اکثر ہلمند اور کابل دریاؤں پر ہوں گے۔ · طالبان کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ "اپنے وسائل پر مکمل اختیار" چاہتی ہے اور پڑوسی ممالک کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ ہونے کی وجہ سے، کوئی بھی نئے آبی معاہدے یا پرانے معاہدوں کی تجدید کا عمل مشکل ہو گیا ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں نے طالبان سے آبی مذاکرات کیے ہیں، لیکن کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بین الاقوامی قوانین اور چیلنجز بین الاقوامی آبی قوانین، جیسے 1997 کے یو این واٹر کورس کنونشن، کا بنیادی اصول یہ ہے کہ "تمام ریپیرین ممالک کو منصفانہ اور مناسب طریقے سے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے، اور انہیں دوسروں کو اہم نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔" مسئلہ یہ ہے کہ: 1. افغانستان نے اس کنونشن کی توثیق نہیں کی۔ 2. "منصفانہ اور مناسب استعمال" کی تعریف متنازعہ ہے۔ 3. پانی کے بہاؤ میں کمی "اہم نقصان" ہے یا نہیں، اس پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لیے، موجودہ تنازعات کا انحصار زیادہ تر 1950-70 کے پرانے معاہدوں پر ہے، جو جدید تقاضوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ناکافی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی: بحران کو ہوا دینا افغانستان اور اس کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے انتہائی متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ · گلیشیرز کا پگھلنا: ہندوکش کے گلیشیر، جو دریاؤں کے پانی کا اہم ذریعہ ہیں، تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر تو سیلاب آئیں گے، لیکن طویل مدتی میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی واقع ہوگی۔ · خشک سالی: بارشوں کے بے ترتیب ہونے اور خشک سالی کے دورانیے بڑھنے سے پانی کی کمی شدت اختیار کر رہی ہے۔ · آبادی میں اضافہ: خطے کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ عوامل مل کر آبی تنازعے کو "صفر کا کھیل (Zero-Sum Game)" بنا رہے ہیں — ایک ملک کا فائدہ دوسرے ملک کے نقصان پر ہوگا۔ ممکنہ نتائج اور خطے پر اثرات اگر آبی تنازعے پر قابو نہ پایا گیا، تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں: 1. زرعی تباہی: ایران کے سیستان، پاکستان کے خیبر پختونخوا، اور ازبکستان کے کپاس کے کھیت بنجر ہو سکتے ہیں، جس سے خوراک کی عدم تحفظ اور معاشی بحران پیدا ہوگا۔ 2. دہشت گردی اور عدم استحکام: معاشی بدحالی نئی نسلوں کو دہشت گرد گروہوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ خاص طور پر ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے، جو کہ غیر مستحکم ہیں، مزید بدامنی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 3. علاقائی تنازعے: آبی تنازعہ مسلح جھڑپوں، سرحدی گولہ باری اور محدود فوجی کارروائیوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ 4. پناہ گزینوں کا بحران: پانی کی کمی سے ہجرت کے نئے سلسلے شروع ہو سکتے ہیں، جس سے پڑوسی ممالک پر دباؤ بڑھے گا۔ حل کی راہیں: مذاکرات یا جنگ؟ اس بحران کا واحد حل مکالمہ اور تعاون ہے: · جدید اور جامع معاہدے: 1973 اور 1960 کے پرانے معاہدوں کو جدید تقاضوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کے علم (Hydrology) کے نئے اعداد و شمار کے مطابق ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ · ڈیٹا کا اشتراک: تمام ممالک کو پانی کے بہاؤ، بارشوں اور زیر زمین پانی کے ڈیٹا کا شفاف اشتراک کرنا چاہیے۔ · پانی کے بہتر انتظام (واٹر مینجمنٹ): نہری نظام کی جدید کاری، واٹرشیڈ مینجمنٹ، واٹر ری سائیکلنگ اور ڈرپ اریگیشن جیسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ہوگا۔ · بین الاقوامی ثالثی: عالمی بینک، اقوام متحدہ یا غیر جانبدار ممالک (جیسے قطر، ترکی) ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ · مشترکہ منصوبے: اوپری اور زیریں ممالک مشترکہ ڈیم، پن بجلی گھر اور نہریں بنا سکتے ہیں، جس سے فوائد تقسیم ہوں۔ نتیجہ افغانستان کی "آبی جنگیں" اب ایک مفروضہ نہیں، بلکہ ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ ہیں۔ یہ تنازعہ صرف پانی کے بارے میں نہیں، بلکہ قومی خود مختاری، معاشی بقا اور خطائی سلامتی کے بارے میں ہے۔ طالبان حکومت کا آبی ترقی پر اصرار، اور پڑوسی ممالک کا اپنے مفادات کا تحفظ، ایک ایسے تصادم کی بنیاد رکھ رہا ہے جو پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فوری، شفاف اور سنجیدہ مذاکرات شروع کیے جائیں، ورنہ آنے والے برسوں میں پانی کی قطرہ قطرہ جنگ، خون کے دریا بہا سکتی ہے۔ افغانستان، جو چار دہائیوں سے آگ اور بارود کی جنگ لڑ رہا ہے، اب شاید اپنے ہی پانی کے تحفظ کے لیے ایک نئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔

0 Comments