افغانستان ہمیشہ اپنے محسن امریکہ کی پیٹھ میں خنجر کیوں مارتا ہے ؟ افغانستان سے امریکی انخلا، مہاجر پالیسی اور سیکیورٹی کا ابھرتا ہوا بحران مزید کتنی جانیں لے گا ؟ 





ثاقب مشتاق: انٹرنیشنل ڈیسک 


افغانستان میں چالیس برس سے زیادہ عرصے تک بحران، جنگ، خانہ جنگی، اور بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت نے خطے کو نہ صرف جغرافیائی طور پر عدم استحکام کا شکار بنایا بلکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی کے کئی نئے چیلنجز بھی پیدا کیے۔ 2021 میں امریکہ کے اچانک اور غیر منظم انخلا نے اس بحرانی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا۔ اس انخلا کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری، مترجمین، اور امریکی مشنز سے وابستہ معاونین خطرات کے پیشِ نظر پاکستان، قطر، یو اے ای اور دیگر ممالک کے ٹرانزٹ سینٹرز میں منتقل کیے گئے، جہاں سے انہیں امریکہ اور یورپ پہنچایا گیا۔


امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان افغان معاونین کو بچایا، جو طالبان حکومت کے ہاتھوں خطرے میں تھے۔ لیکن اس بڑے پیمانے پر انخلا اور امیگریشن پالیسی نے عالمی سطح پر ایک دوسرا سوال بھی کھڑا کر دیا کہ کیا امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہوئے اپنی داخلی سلامتی کے لیول پر نئے خطرات کو جنم دیا؟


افغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی ادارے کمزور، سیاسی حکمتِ عملی غیر مستحکم، اور امن و امان کی صورتحال مسلسل بحران کا شکار رہی ہے۔ امریکہ کا بیس سالہ فوجی مشن بظاہر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے تحت شروع ہوا، لیکن یہ مشن آخرکار ایک ایسی جنگ میں بدل گیا جس کی نہ تو واضح سمت تھی اور نہ ہی مستقل مقاصد، جیسے ہی امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے واپسی کا فیصلہ کیا، سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انخلا کا روڈ میپ غیر منظم تھا، مقامی اتحادی فورسز کو مناسب اسٹرکچر مہیا نہ کیا گیا ، اسکریننگ اور ویٹنگ کے پراسس کو تیز کرنے کے چکر میں حفاظتی تقاضے کمزور ہوئے ، خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان اور وسط ایشیا کی آراء نظر انداز کی گئیں۔


نتیجہ یہ ہوا کہ جب کابل صرف چند دنوں میں طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا، امریکہ کے سامنے ہزاروں افراد کی جان بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انخلا کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔


امریکہ نے افغانستان سے وابستہ لاکھوں افراد کو ’’Special Immigration Visas (SIVs)‘‘ اور ’’Humanitarian Parole‘‘ کے تحت اپنے ملک منتقل کیا۔ اس اقدام کی انسانی بنیادوں پر تعریف بھی ہوئی، لیکن بین الاقوامی سیکیورٹی ماہرین نے کچھ اہم سوالات اٹھائے ، 1. کیا ان ہزاروں افراد کی مکمل اسکریننگ ممکن تھی؟

ہنگامی بنیادوں پر کیے گئے فیصلے ہمیشہ خطرات پیدا کرتے ہیں۔ سیکورٹی ماہرین کے مطابق کہ امریکہ نے کئی کیمپوں میں مختصر انٹرویوز کے بعد لوگوں کو کلیئر کر دیا۔ کئی ممالک میں کرمنل ڈیٹا یا سیکیورٹی ریکارڈ دستیاب ہی نہیں تھا۔ طالبان کے قبضے کے بعد ریکارڈ سسٹمز تباہ یا ناقابلِ رسائی ہوگئے۔


اس لیے یہ کہنا قبل از وقت نہ ہوگا کہ اس بڑے پیمانے کی ہجرت میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کی ماضی کی سرگرمیوں کا درست اندازہ لگانا ممکن نہ تھا۔


افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ کا میدان رہا ہے جہاں ، بارودی مواد تیار کرنے کی مہارت ،  چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال، گوریلا جنگ کے طریقے، عسکری تربیت ، غیر ریاستی گروہوں کی موجودگی اور عام شہریوں تک بھی کسی نہ کسی سطح پر منتقل ہوتی رہی ہے۔


یہ حقیقت بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا سوال ہے کہ ایک ایسے ملک کے لاکھوں افراد کو براہ راست امریکہ اور یورپ منتقل کرنے کے لیے کیا وہ سیکیورٹی فریم ورک موجود تھا جو ممکنہ خطرات کی نشاندہی کر سکے؟


امریکی کانگریس کی کئی رپورٹس میں پہلے ہی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ کچھ افراد جعلی دستاویزات کے ذریعے انخلا میں شامل ہوئے

اسکریننگ کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز تھی، انٹیلی جنس شیئرنگ ناکافی تھی، یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے امریکی تھنک ٹینکس اور سیکیورٹی اداروں میں بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا امریکہ نے انسانی ہمدردی کے تحت ایک ایسا فیصلہ تو نہیں کر لیا جس کے نتائج مستقبل میں اندرونی حملوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔


پاکستان گزشتہ چالیس برس سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس دوران پاکستان نے دہشت گردی کے ہزاروں واقعات ، اسلحے کی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات، منشیات کی اسمگلنگ، شدت پسندوں کے نیٹ ورکس کا براہ راست تجربہ کیا۔ پاکستانی سیکیورٹی ادارے کئی بار نشاندہی کر چکے ہیں کہ افغانستان کی دہائیوں پر محیط جنگ نے ایک نسل کو ہتھیاروں اور لڑائی کی تربیت کے قریب کر دیا ہے۔


یہ تجربہ امریکہ کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ سیکیورٹی اسکریننگ کے بغیر بڑی تعداد میں کسی جنگ زدہ ملک سے شہریوں کی منتقلی مستقبل کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ امریکہ کا اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیا SIV اور ہنگامی انخلا کے تحت آنے والے تمام افراد امریکہ کے قوانین کے مطابق ڈی ریڈیکلائزیشن اور انضمام (Integration) کے مکمل مراحل سے گزریں گے؟

کیا سوشل انضمام میں ناکامی کسی نئی انتہا پسندی کو جنم دے سکتی ہے؟ اگر ہجرت شدہ آبادی کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ذہنی صدمات، جنگی ماحول کی تربیت، معاشرتی عدم قبولیت ، بے روزگاری، ثقافتی ٹکراؤ کا شکار ہوتا ہے، تو امریکہ کو مستقبل میں داخلی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔


یہ خدشہ محض مفروضہ نہیں۔ یورپ میں شام اور عراق کے بحران کے دوران آنے والے مہاجرین کے تجربات اس خدشے کو مضبوط کرتے ہیں جہاں چند انفرادی عناصر نے حملوں میں کردار ادا کیا۔


امیگریشن اسکریننگ کو مزید سخت بنانا۔ بایومیٹرک ، سکیورٹی انٹرویوز اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے بغیر کسی نئی درخواست کو منظور نہ کیا جائے۔ افغان شہریوں کی برآمدات (Export of Instability) کو روکنے کے لیے پالیسی نظرثانی ، افغانستان کی داخلی صورتحال غیر مستحکم ہے، اس لیے امریکہ کو نئی پالیسی وضع کرنا ہوگی کہ مستقبل میں افغان شہریت کی بڑے پیمانے پر منتقلی محدود ہو ، صرف مخصوص اور مکمل اسکریننگ شدہ کیسز قبول کیے جائیں۔

افغان انضمام پروگرام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ، امریکی معاشرے میں انضمام (Integration) کے پروگراموں کو مضبوط کیے بغیر موجودہ پالیسی خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔ علاقائی ممالک کی رائے شامل کرنا کریں اگر ممکن ہو تو ، پاکستان جیسے ممالک سے سیکیورٹی بصیرت (Security Insight) لینا امریکہ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ 


طالبان حکومت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھانا ضروری ہے تاکہ غیر قانونی گروہوں کی سرگرمیاں محدود رہیں۔


افغانستان سے امریکی انخلا انسانی ہمدردی اور پالیسی کی مجبوری کا مرکب تھا، لیکن اس کے اثرات آنے والے برسوں میں امریکی داخلی سلامتی پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی چار دہائیوں پر محیط جنگ نے معاشرتی ڈھانچے کو اس قدر بدل دیا ہے کہ وہاں سے منتقل ہونے والے ہر شہری کے پس منظر کی مکمل چھان بین ممکن نہیں تھی۔


اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر امریکی فیصلہ ساز مستقبل کی غلطیوں سے نہیں بچ سکتے۔ امریکہ کو اب ایک ایسی پالیسی تشکیل دینا ہوگی جو انسانی ہمدردی اور سیکیورٹی دونوں کے درمیان توازن قائم رکھے ، خطے کے تجربات سے سبق سیکھے اور اپنی امیگریشن پالیسی کو محفوظ خطوط پر استوار کرے افغانستان کے موجودہ حالات میں امریکا کی مہاجر پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینا نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔