دس سالہ امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ — پاکستان کیا کرے گا؟

دس سالہ امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ — پاکستان کیا کرے گا؟

تحریر: میاں عمران احمد

دنیا بدل رہی ہے، اور طاقت کے خیمے نئے سرے سے نصب ہو رہے ہیں۔ وقت کے اس گرداب میں ایک بڑی دستک سنائی دی ہے— امریکہ اور بھارت کا دس سالہ دفاعی معاہدہ۔ یہ صرف ایک کاغذ نہیں، یہ خطے کی زمین ہلا دینے والا فیصلہ ہے۔ یہ پیغام ہے کہ اب طاقت کی سیاست میں نئے نام اُبھر رہے ہیں، نئے اتحاد بن رہے ہیں، نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

کیا ہم صرف تماشائی رہیں گے؟

کیا ہم صرف بیانات دیں گے؟

یا ہم وہ پاکستان ہیں جو تاریخ میں بارہا اکیلا کھڑا ہوا… اور سر اٹھا کر نکلا؟

معاہدے کا مطلب: بھارت کے لیے طاقت کا ٹیکہ

بھارت کے ہاتھ میں آنے والے اس معاہدے کا مطلب ہے یہ کہ جدید امریکی دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ عسکری منصوبے، فضائی، بحری اور سائبر شعبوں میں تعاون، انٹیلیجنس شیئرنگ، خطے میں مضبوط اسٹریٹجک سپورٹ۔ بھارت کے لیے یہ معاہدہ طاقت کا ٹیکہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خطے میں اس کے قدم مضبوط ہوں، اس کی دھاک بیٹھے، اور وہ پاکستان کو کمزور دیکھے۔

اور ہمیں علم ہے— بھارت کا ہر قدم، ہر اتحاد، ہر معاہدہ… پاکستان کو ذہن میں رکھ کر کرتا ہے۔ کیونکہ پاکستان اس کے اعصابوں پر سوار ہے۔

پاکستان کے لیے بیداری کا الارم

یہ معاہدہ پاکستان کے لیے صرف خطرہ نہیں، بلکہ بیداری کا الارم ہے۔ جس قوم نے دنیا کی پہلی مسلم ایٹمی طاقت بن کر دکھایا، وہ نئی دوڑ میں کیسے پیچھے رہ جائے؟

مگر حقیقت تلخ ہے— دنیا طاقت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، کمزور کے ساتھ نہیں۔ جس نے اپنے گھر کو مضبوط کیا، دنیا نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اجتماعی قوتیں ہمت والوں کا ساتھ دیتی ہیں… منتظر رہنے والوں کا نہیں۔

فیصلے کا وقت

یہ وقت جذبات سے زیادہ فیصلے مانگتا ہے۔ فیصلے… جو قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔

پاکستان کا لائحہ عمل: چار ستون

1۔ معاشی خودکفالت: ہر قیمت پر

جس نے پیسہ بنایا، اس نے طاقت خرید لی۔ ہمیں اپنی معیشت کو کھڑا کرنا ہو گا۔ چاہے راتوں کو جاگ کر پالیسی بنانی پڑے، چاہے دن میں دو وقت کی جگہ ایک کھانا پڑے— مگر پاکستان کو معاشی غلامی سے آزادی دلانی ہو گی۔

2۔ دفاعی خود انحصاری: اپنی ٹیکنالوجی پر بھروسہ

ہمیں دوسروں کی ٹیکنالوجی پر نہیں، اپنی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنا ہو گا۔ ڈرون، سائبر فورس، دفاعی انڈسٹری، خلائی ٹیکنالوجی — یہ زمانہ گولہ بارود کا نہیں… دماغ اور ڈیٹا کا ہے۔

3۔ سفارتی محاذ: دوست بناؤ، اتحاد مضبوط کرو

چین، ترکی، سعودی عرب، قطر، ایران، وسطی ایشیا، یہ ہمارا سفارتی میدان ہے۔ ہمیں فقط دیکھنا نہیں، قدم رکھنا ہے، کھیل بنانا ہے۔

4۔ اندرونی اتحاد: سب سے اہم ہتھیار

ہمیں ایک ہونا ہو گا۔ وطن پہلے، سیاست بعد میں۔ قوم پہلے، اختلاف بعد میں۔ جب ہم متحد ہوں گے، دنیا ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گی۔

اور یاد رکھیں — پاکستان کے فیصلے پارلیمنٹ، قوم اور فوج مل کر کریں گی… کسی اور کے کہنے پر نہیں۔

آخری بات: ہمارا وعدہ

دنیا کے نقشے پر پاکستان صرف ایک ملک نہیں، یہ نظریہ ہے، یہ غیرت ہے، یہ وعدہ ہے!

ہمیں کمزور دیکھنے والے یاد رکھیں— پاکستان جب بیدار ہوتا ہے تو تاریخ کا رُخ بدل دیتا ہے۔

جس قوم کے جوان سرحد پر جاں سے گزرتے ہوں، جس قوم کی مائیں شہیدوں کو سلام کر کے آنسو پونچھتی ہوں، جس قوم کے دل میں کلمہ بھی ہو اور ہمت بھی— اس قوم کو معاہدے اور محاذ نہیں ڈراتے!

یہ وقت خواب دیکھنے کا نہیں… یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے۔

پاکستان اب ردعمل نہیں دے گا۔ پاکستان اب مستقبل لکھے گا۔

© 2023 - تحریر: میاں عمران احمد


دس سالہ امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ: ایک جامع جائزہ
 تعارف اور تاریخی پس منظر دس سالہ امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ، جسے دفاعی تعاون کا فریم ورک بھی کہا جاتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ 2015 میں امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے نے 2005 کے ابتدائی دفاعی تعاون کے فریم ورک کو تبدیل کیا اور دونوں ممالک کے دفاعی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ معاہدے کے اہم پہلو 1. طویل المدتی تعاون کا فریم ورک دس سالہ مدت کا تعین دونوں ممالک کو طویل المدتی منصوبہ بندی اور مشترکہ مفادات کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ فریم ورک استحکام اور تسلسل کو یقینی بناتا ہے، چاہے حکومتیں تبدیل ہوں۔ 2. فوجی مشقوں کا توسیع معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقوں کی تعداد، حجم اور پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔ مالابار بحری مشق (جس میں جاپان بھی شامل ہے) کو سالانہ سطح پر منظم کیا گیا اور یوڈی ابھیاس جیسی مشترکہ زمینی فوجی مشقوں کو تقویت ملی۔ 3. ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ ترقی معاہدے نے دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تعاون کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ امریکہ نے بھارت کو حساس دفاعی ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس میں ڈرون ٹیکنالوجی، جیٹ انجن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید نظام شامل ہیں۔ 4. انسداد دہشت گردی کا تعاون دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں معلومات کا تبادلہ، مشترکہ تربیت اور مشترکہ آپریشنل منصوبہ بندی شامل ہے۔ 5. بحری سلامتی اور بحری تعاون ہندوستان بحیرہ ہند میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھرا ہے، اور امریکہ نے اس خطے میں بحری سلامتی کے حوالے سے بھارت کے کردار کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک بحری راستوں کی حفاظت، سمندری ڈاکووں کے خلاف کارروائی اور مشترکہ بحری نگرانی پر تعاون کرتے ہیں۔ اہم دفاعی معاہدے اور اقدامات دس سالہ معاہدے کے تحت کئی اہم معاہدے طے پائے: 1. لاگسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (LEMOA) - 2016 یہ معاہدہ دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے اڈوں پر سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ایندھن، مرمت اور دیگر خدمات کے تبادلے کا طریقہ کار طے کرتا ہے۔ 2. کمیونکیشن کمپیٹیبلٹی اینڈ سیکورٹی ایگریمنٹ (COMCASA) - 2018 یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان محفوظ مواصلاتی نظام قائم کرتا ہے، جس سے مشترکہ آپریشنز میں موثر رابطہ ممکن ہوتا ہے۔ 3. بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (BECA) - 2020 یہ معاہدہ جغرافیائی معلومات اور نقشہ جات کے تبادلے کے لیے فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو درست ہتھیاروں کے نظام اور مشترکہ فوجی آپریشنز کے لیے ضروری ہے۔ دفاعی تجارت اور اقتصادی پہلو دس سالہ معاہدے نے دفاعی تجارت میں نمایاں اضافہ کیا ہے: 1. دفاعی خریداری میں اضافہ: بھارت نے امریکہ سے دفاعی سامان کی خریداری میں بڑا اضافہ کیا ہے، جو اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ 2. میک ان انڈیا: امریکی کمپنیاں بھارت میں دفاعی سامان کی پیداوار میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ 3. ٹریڈ پارتھرشپ: دونوں ممالک دفاعی تحقیق اور ترقی میں مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ استراتژک اہمیت بھارت کے نقطہ نظر سے: 1. چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا 2. جدید دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا 3. خطے میں اپنی سکیورٹی مصالحہ کو مضبوط بنانا 4. ہند-پیسیفک میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھرنا امریکہ کے نقطہ نظر سے: 1. ہند-پیسیفک میں چین کو متوازن کرنا 2. بھارت کو ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر استعمال کرنا 3. خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا 4. دفاعی صنعت کو معاشی فوائد پہنچانا علاقائی اور عالمی رد عمل پاکستان کا رد عمل: پاکستان نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے وہ خطے میں توازن کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو ریجن میں جارحانہ پالیسی اپنانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ چین کی تشویش: چین نے بھی اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جسے وہ اپنے خلاف اتحاد کے طور پر دیکھتا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں فوجی کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔ روس کی پوزیشن: روس، جو بھارت کا روایتی دفاعی شراکت دار رہا ہے، نے بھارت-امریکہ تعلقات میں بڑھوتری پر محتاط رد عمل ظاہر کیا ہے۔ چیلنجز اور تنقید 1. خود مختاری کے مسائل کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بھارت اپنی دفاعی خود مختاری سے سمجھوتہ کر رہا ہے اور امریکہ کی پالیسیوں کا حصہ بن رہا ہے۔ 2. علاقائی توازن معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، جو کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ 3. تکنیکی چیلنجز بھارت کے دفاعی ڈھانچے کو امریکی نظاموں کے ساتھ مربوط کرنے میں تکنیکی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ 4. سیاسی مخالفت بھارت میں کچھ سیاسی جماعتوں نے معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر غیر ملکی پالیسی میں خود مختاری کے مسائل پر۔ مستقبل کے امکانات دس سالہ معاہدے کے تحت مستقبل میں تعاون کے کئی نئے شعبے کھل سکتے ہیں: 1. خلائی تعاون: خلائی سلامتی اور خلائی ٹیکنالوجی میں مشترکہ منصوبے 2. سائبر سیکورٹی: سائبر دہشت گردی اور سائبر جنگ کے خلاف مشترکہ دفاع 3. انسداد ڈرون ٹیکنالوجی: جدید ڈرون سسٹمز کے خلاف دفاعی نظام 4. بحری انٹیلی جنس: سمندری علاقوں میں مشترکہ نگرانی اور انٹیلی جنس شیئرنگ نتیجہ دس سالہ امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ یہ نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی جہتوں تک پہنچاتا ہے بلکہ دونوں ممالک کی استراتژک شراکت داری کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کے کئی پیچیدہ پہلو ہیں جو علاقائی استحکام، خود مختاری اور طویل المدتی استراتژک مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ آئندہ برسوں میں اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و استحکام کو کیسے متوازن رکھتے ہیں۔ یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو شکل دے گا بلکہ پورے ہند-پیسیفک خطے کی استراتژک جغرافیائی سیاست پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔امریکہ-بھارت دفاعی معاہدہ


ذیل میں امریکہ–بھارت دس سالہ دفاعی معاہدے کی تقریباً 500 الفاظ پر مشتمل جامع مگر مختصر تعریف/جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:


امریکہ–بھارت دس سالہ دفاعی معاہدہ، جسے Defence Cooperation Framework کہا جاتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ یہ معاہدہ پہلی مرتبہ 2005 میں تشکیل پایا، تاہم اس کی توسیع اور ازسرِ نو تجدید 2015 میں امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر اور بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے درمیان ہوئی، جس نے دفاعی شراکت داری کو ادارہ جاتی شکل دی۔

یہ معاہدہ دس سالہ مدت کے لیے ترتیب دیا گیا تاکہ دفاعی تعاون میں تسلسل، اعتماد اور طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد مشترکہ سکیورٹی مفادات، خطے میں استحکام، اور جدید دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، چاہے دونوں ممالک میں سیاسی حکومتیں تبدیل ہی کیوں نہ ہوں۔

معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بحری مشق مالابار کو وسعت دی گئی، جس میں بعد ازاں جاپان بھی شامل ہوا، جبکہ زمینی مشق یودھ ابھیاس اور فضائی مشقوں کے ذریعے آپریشنل ہم آہنگی بہتر بنائی گئی۔ ان مشقوں کا مقصد مشترکہ جنگی تیاری، سمندری سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

اس دفاعی فریم ورک کا ایک اہم ستون دفاعی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی منتقلی ہے۔ امریکہ نے بھارت کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی دی، جن میں نگرانی ڈرونز، حساس سینسرز، نیویگیشن سسٹمز اور جدید اسلحہ شامل ہے۔ اس تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تین بڑے معاہدے کیے گئے:
LEMOA (2016)، COMCASA (2018) اور BECA (2020)، جنہوں نے لاجسٹکس، محفوظ مواصلات اور جغرافیائی ڈیٹا کے تبادلے کو ممکن بنایا۔

دفاعی تجارت کے میدان میں یہ معاہدہ انتہائی اہم ثابت ہوا۔ بھارت، جو روایتی طور پر روسی اسلحے پر انحصار کرتا تھا، اب امریکہ کے بڑے دفاعی خریداروں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ “میک اِن انڈیا” پالیسی کے تحت امریکی کمپنیاں بھارت میں دفاعی پیداوار اور تحقیق میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

اس معاہدے کی اسٹریٹجک اہمیت خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ بھارت کو ہند-پیسیفک میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ بھارت اسے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر مقام حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

تاہم، اس معاہدے پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بھارت میں کچھ حلقے اسے خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستان اور چین اسے علاقائی طاقت کے توازن کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

مختصراً، امریکہ–بھارت دس سالہ دفاعی معاہدہ ایک ایسا اسٹریٹجک فریم ورک ہے جو نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے بلکہ پورے ہند-پیسیفک خطے کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

Visit Home Page