بھارت نے ڈالر پر اپنے انحصار کو کم کرنے اور روپے کو بین الاقوامی تجارت میں فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جنہیں اکثر میڈیا میں "ڈالر کو خیرباد" کہنے کی تشبیہہ دی جاتی ہے۔ یہ اقدامات دراصل ایک طویل مدتی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اہم اقدامات: 1. روپیہ میں بین الاقوامی تجارت (Rupee Trade): · بھارت نے کئی ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کے معاہدے کیے ہیں، خاص طور پر روس، ایران، اور کچھ خلیجی ممالک کے ساتھ۔ · مقصد: ڈالر میں لین دین کی ضرورت کو کم کرنا، غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کا تحفظ، اور تجارتی اخراجات میں کمی۔ 2. خارجہ تجارت کے قواعد میں نرمی (لبرلائزیشن): · بھارتی ریزرو بینک (RBI) نے بھارتی روپیہ میں درآمدات اور برآمدات کی اجازت دی ہے۔ · بین الاقوامی تجارتی انوائسز (آئی ایف سی) روپے میں جاری کی جا سکتی ہیں اور ادائیگی کسی بھی قابل قبول کرنسی میں ہو سکتی ہے۔ 3. بینکاری اور ادائیگی کے نظام کو فروغ: · بھارت نے اپنے بین الاقوامی ادائیگی کے نظام (مثلاً UPI) کو دیگر ممالک میں پھیلانے پر زور دیا ہے۔ · UPI کے دیگر ممالک کے ادائیگی نیٹ ورکس کے ساتھ یکجہتی سے ڈالر پر انحصار مزید کم ہو سکتا ہے۔ حقیقت پسندانہ صورتحال: · مکمل طور پر "خیرباد" نہیں: ڈالر اب بھی دنیا کی غالب ریزرو کرنسی ہے اور بین الاقوامی تجارت کا 70% سے زیادہ حصہ ڈالر میں ہوتا ہے۔ بھارت کے لیے فی الحال ڈالر پر مکمل انحصار ختم کرنا ممکن نہیں۔ · تدریجی عمل: یہ ایک طویل مدتی اور تدریجی اقدام ہے جس کا مقصد ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے ہونے والے مالیاتی خطرات (کرنسی کے اتار چڑھاؤ، امریکی پابندیوں کے اثرات) کو کم کرنا ہے۔ · چیلنجز: غیر ملکی تجارتی شراکت داروں کو روپیہ قبول کرنے پر راضی کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ روپیہ مکمل طور پر قابلِ تبدیلی (convertible) کرنسی نہیں ہے۔ بھارت کے لیے ممکنہ فوائد: 1. زرِمبادلہ کے ذخائر کا تحفظ: ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔ 2. تجارتی اخراجات میں کمی: کرنسی کی تبدیلی کے کمیشن اور خطرات ختم ہوں گے۔ 3. معاشی خودمختاری: عالمی مالیاتی نظام پر ڈالر کی اجارہ داری کا اثر کم ہوگا۔ 4. چھوٹے تاجروں کو فائدہ: کرنسی کے خطرات کے بغیر تجارت آسان ہوگی۔ نتیجہ: یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بھارت نے "ڈالر کو خیرباد" کہہ دیا ہے۔ درحقیقت، بھارت ڈالر پر اپنی انحصاریت کو بتدریج کم کرنے اور اپنی کرنسی اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی طرف ایک حکمت عملی اقدام کر رہا ہے۔ یہ عالمی اقتصادی نظام میں ڈالر کی بالادستی کے خلاف ایک احتیاطی اور دوراندیشانہ قدم ہے، نہ کہ کوئی یکدم تبدیلی۔ اس سلسلے میں کامیابی کا انحصار بھارت کی اقتصادی طاقت، عالمی شراکت داروں کا تعاون، اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں وقت کے ساتھ پیش آنے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔ بھارت کا بڑا اقدام ، ڈالر کو خیرباد کہہ دیا

بھارت نے روسی تیل کی ادائیگی امریکی ڈالر کے بجائے چینی  یوآن سے کرنا شروع کر دی ہے۔ رائٹرز۔


پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات خراب رہتے ہیں یہ الگ بات ہے، لیکن حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو انڈیا بڑا ملک ہے، دنیا کی سب سے بڑی معاشی منڈی ہے، جو جتنا بڑا ملک ہوگا اس کی سرمایہ کاری اتنی ہی بڑی ہوتی ہے، انڈیا کا ڈالر کو چھوڑ کر سرمایہ کاری کا فیصلہ یا یوں کہیں کہ انڈیا کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ امریکی و یورپی ممالک کے لیے بڑی اور بدترین خبر ہے


src="https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEh-kI6vgvtAWowBT9rp9oyVIpWBAuD4F1-f5eIhCs1taSPxvIjC5u2ujtorB1IRENIjJnjvxgXkHdm9c1w22eENXd8fmTIg2KdZJ3vvlIdHGjj-ez1LR0B8aC37oAwMnXmRiwnCklcsrJK8y4G4PxSh4D-d9uCo7u1hC-YSJSKzNghwXAGAvnEbwpAHLQQ/s320/IMG-20251009-WA0040.jpg" width="256" />